لاہور۔ پی ایچ ایف ہیڈ آفس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ ہائی پرفارمنس پاکستان ہاکی فیڈریشن اولمپئن طاہر زمان ،صدر پاکستان اسپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن،ایڈیٹر ” ویکلی تصور” محمد اقبال ہارپر کا انٹرویو کے بعد گروپ فوٹو

دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کرنے کیلۓ کوچنگ کی جدید ترین صلاحیتوں کو اپنانا ہو گا۔طاہر زمان

ورلڈ کپ سے پہلے کھلاڑیوں کو کم از کم 30 میچز کھلانے کا ٹارگٹ ہے تا کہ یہ مضبوط کمبینیشن کے عادی بن جائیں۔

ٹیم مینجمنٹ کا حصہ نہیں ہوں لیکن بطور آبزرور پرو لیگ کیلۓ انگلینڈ جاؤں گا وہاں سے دنیا کی بہترین ٹیموں کی سکلز اور تجربات کو آبزرو کر کے کھلاڑیوں میں منتقل کرنا ہے۔

لاہور( انٹرویو۔محمد اقبال ہارپر/ پریس نیٹ ورک آف پاکستان،پی این پی) دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کرنے کیلۓکوچنگ کی جدید ترین صلاحیتوں کو اپنانا ہو گا۔پاکستان ہاکی ٹریک پر چڑھ تو گئ ہے اس کو برقرار رکھنے کیلۓ کھلاڑیوں کو مزید گروم کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیم مینجمنٹ اورٹیم کے سیٹ اپ کو طویل عرصہ تک قائم رکھنا ہو گاورنہ پھر جو تجربہ اور پوٹینشل حاصل ہو گا پھر زیرو سے اسٹارٹ کرنا پڑے گا۔ان خیالات کا اظہار ہاکی کے شہرہ آفاق کھلاڑی اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ ہائی پرفارمنس اولمپئن طاہر زمان نے “ویکلی تصور” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوۓ کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ایچ ایف نے مجھے جو ڈیوٹی سونپی ہے اس کو پوری ایمانداری اور جانفشانی سے پورا کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ایک سوال کے جواب میں طاہر زمان نے کہا کہ میں ماضی میں مختلف حیثیتوں سے ٹیم کے ساتھ رہا ہوں کھلاڑیوں کی پرفارمنس اور سکلز سے بخوبی آگاہ ہوں۔اس وقت ٹیم مینجمنٹ کا حصہ تو نہیں ہوں لیکن پرو لیگ میں بطور آبزرور جاؤں گا اور دنیا کی بہترین ٹیموں کی سکلز اور تجربات کو آبزرو کر کے اپنے کھلاڑیوں کو ان سکلز میں ڈھالنے کیلۓ بھرپور اقدامات کیۓ جائیں گے لیکن ان سکلز اور تجربات کو منتقل کرنے کیلۓ فیڈریشن،ٹیم مینجمنٹ،کوچز اور مجھ سمیت سب کو ٹیم ورکنگ ریلیشن شپ کو اپنانا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا فی الحال ٹارگٹ یہ ہے کہ ورلڈکپ سے پہلے قومی ٹیم کو کم از کم 30 انٹرنیشنل میچز لازمی کھلانے ہیں۔ملک میں ایک دو تین ملکی یا چار ملکی ٹورنامنٹ کرانا ہو گا یورپ میں بھی دو تین ٹور کرنا ہوں گے تا کہ کھلاڑیوں کو 30 کے قریب میچز کا تجربہ حاصل ہو جاۓ۔ کھلاڑیوں کو ایک مضبوط کمبینیشن کا عادی بنانا ہے یہ سخت مقابلوں کے بغیر ممکن نہیں۔ کھلاڑیوں کو اب اپنے اوپر یہ بات لازم کرنا ہو گی کہ میچ کے پہلے ہاف میں کسی صورت بھی مخالف ٹیم کو لیڈ نہیں لینے دینی۔پھر ایک بھرپور کمبینیشن کے ساتھ متحرک ہونا ہے نا کہ اپنی اپنی پوزیشن پر کھڑے ہو کر گیند کا انتظار کرنا ہے۔اب آپ کو اپنی اپنی پوزیشن پر متحرک رول ادا کرنا ہو گا پھر کہیں جا کر ہم دنیاۓ ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حقیقی معنوں میں حاصل کر سکیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم انشاء اللہ مزید کوچز کو ہاکی کی جدید ٹیکنیکس کے ساتھ ٹرینڈ کریں گے،ایجوکیشنل کورسز،سکلز ڈویلپمنٹ سیمینارز کا انعقاد ریگولر بنیادوں پر کرایا جاۓ گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے زیادہ تر کوچز نے ایف آئی ایچ کے ڈویلپمنٹ کوچنگ کورسز کیۓ ہوۓ ہیں اس کے بعد ہائی پرفارمنس کورسز کے بعد ماسٹر کوچ بنتاہے۔الحمد اللہ میں ایشیاء میں واحد ایف آئی ایچ کا ہائی پرفارمنس ماسٹر کوچنگ کا تجربہ رکھتا ہوں اور انشاء اللہ میں اپنے ان تجربات سے اپنے ملک کے کھلاڑیوں اور کوچز کو ہر ممکن فائدہ دوں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *