فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے گروپ سی کا پہلا مگر انتہائی اہم میچ آج رات کھیلا جائے گا، جس میں پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل کا سامنا افریقہ کی چیمپئن ٹیم مراکش سے ہوگا جس نے گزشتہ ورلڈکپ کے ناک آؤٹ میچوں میں اسپین اور پرتگال جیسی ٹیموں کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی۔
نیو جرسی کے تاریخی میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے برازیل اور مراکش کے میچ کو فٹ بال شائقین گروپ اسٹیج کا سب سے دلچسپ میچ قرار دے رہے ہیں۔
برازیل اس ورلڈکپ میں چھٹی مرتبہ ورلڈ چیمپئن بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف ٹریک ریکارڈ اور موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے مراکش کو بھی ’ڈارک ہارس‘ یعنی بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
فٹبال کا نام سنتے ہی عموماً ذہن میں ابھرنے والی پہلی ٹیم برازیل ہوتی ہے، جسے عام طور پر فیورٹ بھی تصور کیا جاتا تھا لیکن اس ٹورنامنٹ میں خراب فارم، اندرونی تنازعات اور مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے اسے روایتی فیورٹ نہیں سمجھا جارہا ہے۔
کوالیفائنگ راؤنڈ کے دوران برازیل کو 6 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے لیے سب سے بڑا دھچکا ان کے کٹر حریف ارجنٹائن کے ہاتھوں 4-1 کی عبرت ناک ہار تھی۔ یہ 1964 کے بعد ارجنٹائن کے خلاف برازیل کی سب سے بڑی ہار تھی، جس کی وجہ سے سابق کوچ ڈوریول جونیئر کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
ریال میڈرڈ کے کامیاب ترین سابق کوچ کارلو اینسیلوٹی اس ورلڈکپ میں برازیل کے ہیڈ کوچ کے طور پر شریک ہیں مگر انہیں ایک ایسے اسکواڈ کو سنبھالنے کا چیلنج درپیش ہے جو بے پناہ ٹیلنٹ تو رکھتا ہے مگر تسلسل کی کمی کا شکار ہے۔
برازیل کی ٹیم میں ونیشیئس جونیئر، رافینیا، مارکینیوس جیسے اسٹار کھلاڑی موجود ہیں، جو کسی بھی لمحے میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سپر اسٹار نیمار اگرچہ مراکش کے خلاف میچ کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ فٹنس بحال ہونے پر وہ گروپ اسٹیج کے اگلے میچوں میں ٹیم کو جوائن کریں گے۔
برازیل کے گول کیپر الیسن نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ برازیل اس وقت فیورٹ کہلانے لائق نہیں ہے لیکن اس بات کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ٹیم پر دباؤ کم ہوگا، کیوں کہ ماضی میں بھی برازیل نے ایسی ہی صورت حال میں عالمی ٹائٹل جیتے ہیں۔