
پی ایس ایل فائنل۔ حیدرآباد کی ٹیم ایک اور کرشمہ دکھاسکتی ہے
حنین شاہ نے کمال ہی کردیا
تحریر: سہیل دانش
حیدرآباد کے حنین شاہ کے آخری اوور کی 6 کرشماتی گیندوں نے پی ایس ایل مقابلوں میں ایک ایسے انمول اور یادگار باب کا اضافہ کردیا۔ جس میں اسلام آباد کے لئے جیت کو یقینی جھپٹ لینے کی خواہش کو نامرادی میں اس طرح بدلا کہ اِس ٹورنامنٹ میں خود کو ٹرافی کی فیوریٹ سمجھنے والی ٹیم منہ تکتے رہ گئی۔ 19 اوور میں اسلام آباد کے بلے بازوں نے رنز بٹورنے کی جس طرح دھماچوکڑی مچائی تھی اُس نے حیدرآباد کی جیت کی رہی سہی اُمیدوں پر اوس ڈالدی اِس مرحلے پر 20ویں اوور میں محض جیت سے 6 رنز کا فاصلہ ایک زوردار شاٹ کا محتاج رہ گیا تھا۔ لیکن پھر جس طرح اسلام آباد ٹیم کے خواب چکنا چور ہوئے اور حنین شاہ کی سپرایکسپریس گیندوں نے جو کمال دکھایا وہ کرکٹ کے ہر شائق کے لئے ناقابلِ یقین اور
حیران کن تھا انٹرنیشنل کرکٹ کے مقابلوں میں ایسی سنسنی خیزی اور سب سے بڑھ کر کی عقل چوپٹ کردینے والی کارکردگی شاذونادر ہی دیکھنے کو ملی ہوگی۔ حیدرآباد کی کامیابی پر میں اِس لئے بے انتہا خوش ہوں کہ اِس شہر کو خدا حافظ کیے ہوئے 45 برس گزر گئے لیکن آج بھی حیدرآباد کے گلی کوچے میری یادوں میں بسیرا کیا ہوئے ہیں میں حیدرآباد چھوڑ آیا۔ لیکن حیدرآباد آج بھی مجھ میں آباد ہے۔ حنین شاہ تم نے کمال کردیا۔ اگر تمہاری ٹیم نے ابتدائی 4 میچز ہارنے کے بعد مسلسل سات میچز میں کامیابی حاصل کرنے کا کرشمہ دکھا ہی دیا ہے تو پشاور کے خلاف 8واں میچ جیت کر میری طرح حیدرآباد کے لوگوں کے لئے فخر اور اکڑ کے ساتھ گرینڈ جشن کے شادیانے بجانے کا موقع فراہم کردو۔