چھٹے ایشین بیچ گیمز سانیا 2026۔ایشیا کو قریب لانے کا ذریعہ

اعتصام الحق
چھٹے ایشین بیچ گیمز سانیا 2026 اپنے اختتام کو پہنچے۔ یہ صرف کھیلوں کا ایک ایونٹ نہیں رہا بلکہ ایشیا کی اسپورٹس اسپرٹ، تنظیمی صلاحیت اور باہمی تعلقات کی ایک بھرپور عکاسی بنا۔ ان گیمز میں 45 ممالک کے 1800 کھلاڑیوں نے حصہ لیا ۔ان مقابلوں کے لئے 8 کمپلیکسز اور ایک ٹریننگ سینٹر سانیا میں بنایا گیا تھا جہاں عوام کی کثیر تعداد نے بھی ان مقابلوں کو دیکھا اور محظوظ ہوئے ۔

چین کے ساحلی شہر سانیا میں منعقد ہونے والے ان کھیلوں کو عالمی میڈیا نے مجموعی طور پر ایک مثالی اور کامیاب ایونٹ قرار دیا۔مین اسٹریم میڈیا اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے نہ صرف انتظامات بلکہ کھیلوں کے معیار کو بھی سراہا۔ جدید سہولیات، بروقت ٹرانسپورٹ اور کھلاڑیوں کے لیے عالمی معیار کی رہائش نے ان گیمز کو ایک ماڈل ایونٹ بنایا ۔ مستند اعداد و شمار کی روشنی میں نتائج دیکھے جائیں تو نظر آتا ہے کہ چین نے نہ صرف ان کھیلوں کے انعقاد میں کامیابی حاصل کی بلکہ کھیلوں کے مقابلوں میں بھی چین نتائج کے اعتبار سے سر فہرست رہا ۔ چین مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں 24 سونے 18 چاندی اور کانسی کے 13 تمغوں کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر پر رہا ۔تھائی لینڈ 10 سونے اور ایران نے 9 سونے کے تمغوں کے ساتھ مجموعی طور پر تیسری پوزیشن حاصل کی ۔یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ میزبان ملک نے نہ صرف بہترین انتظامات کیے بلکہ میدان میں بھی مکمل برتری دکھائی۔

پاکستان کی بات کی جائے تو اگرچہ میڈلز کی تعداد زیادہ نہیں رہی، لیکن کارکردگی میں واضح بہتری دیکھنے کو ملی۔ پاکستان کی جانب سے ریسلنگ میں محمد انعام اور اسد اللہ نے چاندی کے تمغے جیتے اور کبڈی میں پاکستان تیسرے پوزیشن کے ساتھ کانسی کا تمغی جیت پایا ۔ اس کے علاوہ ہینڈ بال اور ایتھیلیٹکس میں میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اچھا مقابلہ کیا۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے تاثرات بھی اس ایونٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ پاکستانی ریسلر محمد انعام اور اسدا للہ نے سی ایم جی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے انتظامات بہترین رہے اور ہر طرح کی آسائش نے ان کی پرفارمنسز کو بہتر ہونے میں مدد دی ۔ایتھیلیٹ فائقہ ریاض اور حمزہ آصف نے کہا اس طرح کے ایونٹس میں موقع ملنے سے ان کے کھیل کے معیار میں اضافہ ہوا ہے ۔

ایشین کبڈی فیڈریشن کے جنرل سیکٹری اور ان گیمز میں کبڈی کے میچز کے آفیشلز محمد سرور نے کہا کہ وہ پہلی بار 1990 میں چین آئے تھے اور اس وقت سے اب تک چین نے ہر میدان سمیت کھیلوں کے میدان میں بے پناہ ترقی کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے چین اور آج کے چین میں بہت فرق ہے اور اگر چین کی ترقی کا راز جاننا ہے تو اس کا اندازہ چین کے کھلاڑیوں کے نظم و ضبط،ان کی پرفارمنسز اور ان کھیلوں سمیت کسی بھی بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد سے لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے کبڈی میچ کے سیمی فائنل کے موقع پر پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن کے جنرل سیکٹری خالد محمود نے کہا کہ چین نے ہمیشہ کی طرح کھیلوں کے اس بین الاقوامی ایونٹ کو بہترین انداز سے منعقد کیا اور وہ جب جب چین آتےہیں تو چینی عوام میں موجود پاکستان کے لئے محبت کا مشاہدہ کرتے ہیں جو پہلے سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ ان کھیلوں کے دوران پاکستانی اور چینی کھلاڑیوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی مضبوط ہوئے۔ کئی مواقع پر کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ ، تصاویر بناتے اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آئے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کھیلوں کو صرف مقابلہ نہیں بلکہ ایک عالمی زبان بنا دیتا ہے۔

عالمی میڈیا نے بھی ان گیمز کو مثبت انداز میں رپورٹ کیا، خاص طور پر ماحولیاتی اقدامات، صاف ستھرے وینیوز اور سیکیورٹی انتظامات کو سراہا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ سانیا نے ایشیا میں بیچ اسپورٹس کے مستقبل کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔

ایک عام مشاہدہ بیان کیا جائے تو یہ گیمز صرف میڈلز کی دوڑ نہیں تھے بلکہ سیکھنے، جڑنے اور آگے بڑھنے کا ایک موقع تھے۔ چین نے اپنی برتری ثابت کی، تھائی لینڈ اور ایران نے مضبوط مقابلہ دیا، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے یہ سیکھا کہ عالمی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے کس سطح کی تیاری درکار ہوتی ہے۔

یوں سانیا 2026 کے یہ کھیل ختم ضرور ہوئے، مگر ایک واضح پیغام چھوڑ گئے اور وہ یہ کہ کھیل صرف جیتنے کا نام نہیں، بلکہ قوموں کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہیں۔

Salik Majeed

Learn More →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *